جرنلزم ڈاٹ پی کے

ابتدائیہ ۔ ڈریکولا یونیورسٹی

بطور ایک محقق غیر جانبدار ہو کر دیکھنا اور سمجھنا پڑتا ہے۔اسلام کے نام پر کرہ ارض پر بننے والے واحد اور اکلوتے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بننے کے فوراً بعد اس کی تشریح و توضیع کچھ اس انداز میں کی گئی کہ اس کا خواب شاعر مشرق نے دیکھا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اس خواب کو پورا کیا۔ لیکن یہ بھول گئے کہ اشعار،شعرا اور شاعری کے بارے میں قرانِ مجید میں کیا کچھ فرمایا گیا ہے۔ احکام خداوندی سے ہٹ کر اس مملکت کی تشریح اگر ایسی ہی الفاظ میں کی گئی اور جاتی ہے تو یہ کچھ حیران کن بات نہیں کہ یہاں کے حکمران پانامہ لیکس وغیرہ ہی میں تو ملوث پائے جاتے ہیں۔
معروف کرکٹر،غربا کیلیے پاکستان میں فری کینسر اسپتال بنانیوالے اور آج کل نوجوان نسل کے پسندیدہ سیاسی رہنماعمران خان نے بالکل بجا ارشاد فرمایا ہے کہ جب حکمران ہی چور ہوں تو وہ چوری سے پہلے ہر ادارہ خراب کرتے ہیں تا کہ ان کی چوری میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ بلکہ ہر ادارہ ان کا معاون ہو۔عمران خان کی انہی سچ بیانیوں کو دیکھتے ہوئے کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اس کا ممبر شپ فارم بھر ہی دیا جائے لیکن بطور صحافی یہ ممکن نہی۔
یہاں ہم ایک ایسے ہی ادارے پر بحث سے واضع کریں گے کہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کو ہم نے حکیم الامت تو مان لیا لیکن حکیم تو ہر بیماری کی تشخیص ہی نہیں بتایا کرتا بلکہ اس کا علاج بھی بتاتا ہے۔ لیکن یہ کیا ہوا کہ ایک ایسا شخص جو خود کہہ گیا کہ وہ گفتار کا غازی ہے کردار کا نہیں۔یعنی اس کی باتوں کو وہ خود بھی عملی نہیں مانتا۔ انہی علامہ اقبال کے نام پر بننے والا ہمارا قومی ادارہ جو کہ اقبال کے شاہینوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کا علمبردار ہے اور اس کا کام قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے کام میں فعالیت کا حامل ہے۔ یعنی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی۔
بطور ایک صحافی میں نے اس کو ہر ممکن انداز میں جانچنے کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں میں نے طلباوطالبات کو بھی ساتھ ملایا اور ان کے معاملات، مسائل اورکامیابیاں دیکھنے کی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اور اپنی اس تحقیق و تفتیش کو ڈریکولا ونیورسٹی کے نام سے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اس تحقیق کے دوران مسٹر نو ون کو صاحبِ اختیار بھی دیکھا، احمقوں کو اختیارات کا حامل دیکھا، حق داروں کو در در دھکے کھاتا دیکھا، اقبال کے شاہینوں کا جو حال میں نے ڈریکولا یونیورسٹی کی گلیوں میں خوار ہوتے دیکھا وہ ناقابلِ بیان ہی نہیں بلکہ عبرت انگیز بھی ہے۔ امنگوں ترنگوں جوش اور جذبے سے بھرپور جوانوں دیہاڑی داروں کے ہاتھوں ذلت کی پستیوں میں گرے ہوئے بھی دیکھا اور دور دراز علاقوں اور دیہاتوں سے آئے ہوئے لوگوں کو روزگار کے نام پر دیہاڑیاں لگاتے ہوئے بھی دیکھا۔ حساس ترین ریکارڈ کو اناڑیوں ک ہاتھوں میں دیکھا۔ جوان بچوں کے سفید ریش بوڑھے والدین فقط ایک مزید ڈگری کے عوض چند روپوں کی تنخواہ میں یا عہدے میں ترقی کے لئے خوار و زبوں حالی میں مجبور بھی دیکھے توبڑھاپے میں اپنی اولاد اور زمانے کے سامنے ڈگری ہولڈر بننے کی دھن میں مست پی ایچ ڈی کے امیدوار ذلت کی پستیوں اور مجبوریوں میں بد حال بھی دیکھا ۔
اور کیا کیا دیکھا روزانہ کی بنیادوں پر لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس میں اضافہ ، تنقید یا تردید کے لیے رابطہ کرنے والوں کو بصد احترام لیا جائیگا۔
اپنے خیالات و تبصرات سے ضورو نوازئیے گا۔۔
ای میل ایڈریس

 admin@journalism.pk